کیا نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو نبوت چالیس سال میں ملی ؟
سوال۔ زید کہتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چالیس سال کی عمر میں منصب نبوت پر سرفراز ہوئے۔ دریافت طلب یہ امر ہے کہ ماقبل نبوت زندگی کیا نبوی زندگی نہ تھی۔ جبکہ اس سلسلے میں ایک حدیث بھی ہے کہ فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں اس وقت‘ نبی تھا جب حضرت آدم علیہ السلام آب و گل کی منزلیں طے کر رہے تھے۔ براہ کرم ان سوالوں کے جواب قرآن و حدیث و سلف صالحین کے معتقدات کی روشنی میں دیں اور زید کی حیثیت و حکم شرعیہ سے آگاہ فرمائیں‘ اور بیشک اللہ ہی بہترین اجر دینے والا ہے حق واضح کرنے والوں کو۔
الجواب۔ چالیس (۴۰) سال کی عمر میں منصب نبوت پر سرفراز ہوئے اگر اس کا مطلب یہ ہے تو صحیح ہے کہ چالیس سال کی عمر میں تبلیغ کا حکم ہوا تو حضور نے اعلان نبوت فرمایا‘ اور اگر یہ مطلب ہے کہ چالیس سال کی عمر سے پہلے وہ نبی نہیں تھے اور اس سے پہلے کی زندگی نبوت کی زندگی نہ تھی تو غلط ہے۔ حدیث شریف میں ہے: : عن العرباض بن ساریۃ عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم انہ قال انی عبداللّٰہ مکتوب خاتم النبیین وان آدم المنجدل فی طینتہ (مشکوٰۃ شریف ص ۵۱۳) حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’حاصل ایں معنی آنچہ مشہور ست برزبانہا بلفظ کنت نبیا وآدم بین الماء والطین ودررواتیے کتبت نبیا ازکتابت یعنی نوشتہ شدم من پیغمبر وحال اں کہ آدم میان آب و گل بود یعنی مخلوق نہ شدہ بود۔ایں جامی گویند کہ ازسبق نبوت آنحضرت چہ مراد ست اگر علم و تقدیر الٰہی ست نبوت ہمہ انبیاء شامل ست و اگر بالفعل ست آں خود دردنیا خواہد بود۔ جوابش آنست کہ مراد اظہار نبوت اوست صلی اللہ علیہ وسلم بیش از وجود عنصری ولے درملائکہ وارواح چنانکہ وارد شدہ است کتاب اسم شریف اوبر عرش و آسمانہا وقصور بہشت وغرفہ ہائے آں و برسینہ ہائے حور العین و برگہائے درختان جنت ودرخت طوبی و برار وہا وچشمہائے فرشتگان۔ وبعضے عرفاء گفتہ اند روح شریف وے صلی اللہ علیہ وسلم نبی بوددر عالم ارواح کہ تربیت ارواح می کرد۔ یعنی اس حدیث شریف کے معنی کا حاصل وہ ہے جو کنت نبیا و آدم بین الماء والطین کے لفظ سے لوگوں کے زبانوں پر مشہور ہے‘ اور ایک روایت میں کتبت نبیا ہے یعنی میں اس وقت نبی لکھا گیا جب حضرت آدم علیہ السلام آب و گل کے درمیان تھے۔ یعنی پیدا نہیں کئے گئے تھے۔ اس جگہ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضور کے پہلے نبی ہونے کا کیا مطلب ہے؟ اگر یہ مطلب ہے کہ ان کانبی ہونا مقدر ہو چکا تھا اور وہ علم الٰہی میں پہلے سے نبی تھے تو ایسی نبوت تو تمام انبیائے کرام کو شامل ہے کہ ہر ایک کا نبی ہونا مقدر ہو چکا تھا‘ اور سب علم الٰہی میں پہلے ہی سے نبی تھے اور اگر بالفعل نبی ہی مراد ہے‘ تو دنیا ہی میں ہوں گے‘ تو اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ مطلب ملائکہ اور ارواح میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود عنصری سے پہلے ان کی نبوت کا ظاہر کرنا ہے جیسا کہ وارد ہے کہ عرش، ساتوں آسمان، جنت کے محلات اس کے دریچوں، حورالعین کے سینوں، جنت کے درختوں اور درخت طوبیٰ کے پتوں اور فرشتوں کی آنکھوں اور ان کے ابروئوں پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم شریف لکھا ہوا تھا‘ اور بعض بزرگان دین نے فرمایا کہ حضور کی روح شریف عالم ارواح میں نبی تھی جو ارواح کی تربیت کرتی تھی۔ (اشعۃ اللمعات جلد چہارم ص ۴۷۴) اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث مروی ہے کہ قالوا یارسول اللّٰہ متی وجبت لک النبوۃ (ای ثبت- مرقاۃ) قال و اٰدم بین الروح والجسد ‘ یعنی صحابہ کرام نے عرض کیا: یارسول االلہ! آپ کے لیے نبوت کب ثابت ہوئی توحضور نے فرمایا آدم علیہ السلام جب روح اور جسم کے درمیان تھے۔ (مشکوٰۃ) ثابت ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت آدم علیہ السلام کے پیدا ہونے سے پہلے ہی نبی تھے‘ اور ان کے نبی ہونے کو خداتعالیٰ نے عرش اعظم وغیرہ پر ان کا نام لکھ کر پہلے ہی ظاہر فرما دیا تھا۔ یہ تینوں سوال اگر ایک ہی شخص کے بارے میں ہیں تو وہ جاہل نہیں تو گمراہ ہے‘ اور گمراہ نہیں تو جاہل ہے۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم بالصواب۔
کتبہ: جلال الدین احمد الامجدی
۷؍ ربیع الاول ۱۴۰۰ھ
حوالہ فتاویٰ فیض الرسول جلد اول کتاب العقائد

0 تبصرے