قُربانی کے وَقت تماشا دیکھنا کیسا؟
قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذَبْح کرنا افضل اور بوقتِ ذَبْح بہ نیّتِ ثوابِ آخِر ت وہاں حاضِر رہنا بھی افضل ۔ مگراسلامی بہن صِرف اُسی صورت میں وہاں کھڑی ہو سکتی ہے جب کہ بے پردگی کی کوئی صورت نہ ہو مَثَلاً اپنے گھر کی چار دیواری ہو، ذَابح ( یعنی ذَبْح کرنے والا) محرم ہو اور حاضِرین میں بھی کوئی نا مَحرم نہ ہو ۔ ہاں غیر محرم نابالغ لڑکا موجود ہو تو حرج نہیں ۔ محض حَظِّ نفس(یعنی مزہ لینے ) کی خاطر ذَبْح ہونے والے جانور کے گرد گھیرا ڈالنا، اُس کے چِلّانے اور تڑپنے پھڑکنے سے لطف اندوز ہونا، ہنسنا ، قہقہے بلند کرنا اور اس کا تماشا بنانا سراسر غفلت کی علامت ہے ۔ ذَبْح کرتے وَقْت یااپنی قُربانی ہو رہی ہو اُس کے پاس حاضِر رہتے وَقْت ادائے سنَّت کی نیَّت ہو نی چاہئے اور ساتھ ہی یہ بھی نیَّت کرے کہ میں جس طرح آج راہِ خدا میں جانور قربان کر رہاہوں ، بوقتِ ضَرورت اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنی جان بھی قربان کردوں گا ۔ نیز یہ بھی نیَّت ہو کہ جانورذَبْح کرکے اپنے نفسِ اَمّارہ کو بھی ذَبْح کر رہا ہوں اور آیَندہ گناہوں سے بچوں گا ۔ ذَبْح ہونے والے جانور پر رَحْم کھائے اور غور کرے کہ اگر اِس کی جگہ مجھے ذَبْحکیا جا رہا ہوتا اور لوگ تماشا بناتے اور بچّے تالیاں بجاتے ہوتے تو میری کیا کیفیت ہو تی!
ذَبیحہ کو آرام پہنچا یئے
حضرتِ سیِّدُنا شَدّاد بن اَوس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ الْمُرسَلین، خاتَمُ النَّبِیِّین ، جنابِ رحمۃٌ لِّلْعٰلمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : اللہ تَعَالٰی نے ہر چیز کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ، لہٰذا جب تم کسی کو قتل کرو تو احسن(یعنی بہت اچّھے ) طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذَبح کرو تو اَحسن(یعنی خوب عمدہ) طریقے سے ذَبح کرو اورتم اپنی چُھری کو اچّھی طرح تیز کرلیا کرواورذَبیحہ کو آرام دیا کرو ۔ (صَحیح مُسلِمص۱۰۸۰ حدیث۱۹۵۵)بوقتِ ذَبْح رضائے الٰہی کی نیّت سے جانور پر رَحْم کھانا کارِثواب ہے جیساکہ ایک صَحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی : یارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! مجھے بکری ذَبْح کرنے پر رَحْم آتا ہے ۔ فرمایا : ’’ اگر اس پر رَحْم کرو گے اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی تم پر رَحْم فرمائے گا ۔ (مُسندِ اِمام احمد بن حنبل ج۵ ص ۳۰۴حدیث ۱۵۵۹۲)

0 تبصرے