خبر غریب کی تعریف

حدیث غریب کی تعریف


 خبرِ غریب:           وہ حدیث جس کی سند کے کسی بھی طبقہ میں  ایک راوی رہ جائے ،اب یہ عام ہے چاہے یہ تفرد ایک طبقے میں  پایا جائے یا ایک سے زائد یا جمیع طبقات سند میں۔

مثال:


           ’’ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ ‘‘  (اعمال کادارومدار نیتوں  پر ہے) سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اس حدیث کو روایت کرنے میں  حضرت عمر فاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  متفرد ( تنہاہیں )  ۔کبھی یہ تفرد سند کے تمام طبقات میں  ہوتاہے۔


حکم:


          خبر غریب ظن کا فائدہ دیتی ہے تاہم اس کی تائید میں  قرائن وشواہد کے ملنے سے اس پربھی عمل ضروری ہوجاتاہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے